Respect
دو ٹکے کی عزت کہا جاتا ہے شریف بندہ اپنی عزت پہ حرف نہیں آنے دیتا۔وہ ہر چیز قبول کر لیتا ہے لیکن اپنی عزت پر آنچ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف نے کل ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنی عزت بہت پیاری ہے اور اپنی عزت پر کسی قسم کا دھبہ برداشت نہیں کر سکتا۔ میرا موضوعِ سخن نواز شریف کا بیان نہیں بلکہ "عزت "ہے۔ سوال یہ ہے کہ عزت کس چڑیا کا نام ہے؟ ہر بندے نے اپنے لئے ایک عزت کا معیار رکھا ہوا ہے۔ سیٹھ کا معیارِ عزت کچھ اور ہے چوکیدار کا معیار کوئی اور۔ افسر کسی اور عزت کا متلاشی ہے اور نوکر کسی اور عزت کے۔ پردہ نشین کے لئے عزت کوئی اور ہے طوائفہ کے لئے کچھ اور۔ اگر عزت کوئی سٹینڈرڈچیز ہوتی تو جہان والوں کے لئے ایک ہی ہوتی۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہر بندہ اس کی جدا جدا تشریح کیوں کر رہا ہے؟ کسی کو پانی پلادیں تو عزت ہے، اور کوئی کوک پی کر کہتا ہے مجھے عزت نہیں دی۔ کسی کو اکانمی جہاز کا ٹکٹ بھیج دیں تو بے عزتی، اور کوئی اکانمی ٹرین میں بیٹھ کر معزز۔ رویوں کا یہ فرق کیوں؟ عزتوں کے یہ جدا معیار کیوں؟ کیوں خدا کے بندے خود کو خدا سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں؟...