Posts

Respect

Image
دو ٹکے کی عزت کہا جاتا ہے شریف بندہ اپنی عزت پہ حرف نہیں آنے دیتا۔وہ ہر چیز قبول کر لیتا ہے لیکن اپنی عزت پر آنچ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف نے کل ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنی عزت بہت پیاری ہے اور اپنی عزت پر کسی قسم کا دھبہ برداشت نہیں کر سکتا۔ میرا موضوعِ سخن نواز شریف کا بیان نہیں بلکہ "عزت "ہے۔ سوال یہ ہے کہ عزت کس چڑیا کا نام ہے؟ ہر بندے نے اپنے لئے ایک عزت کا معیار رکھا ہوا ہے۔ سیٹھ کا معیارِ عزت کچھ اور ہے چوکیدار کا معیار کوئی اور۔ افسر کسی اور عزت کا متلاشی ہے اور نوکر کسی اور عزت کے۔ پردہ نشین کے لئے عزت کوئی اور ہے طوائفہ کے لئے کچھ اور۔ اگر عزت کوئی سٹینڈرڈچیز ہوتی تو جہان والوں کے لئے ایک ہی ہوتی۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہر بندہ اس کی جدا جدا تشریح کیوں کر رہا ہے؟ کسی کو پانی پلادیں تو عزت ہے، اور کوئی کوک پی کر کہتا ہے مجھے عزت نہیں دی۔ کسی کو اکانمی جہاز کا ٹکٹ بھیج دیں تو بے عزتی، اور کوئی اکانمی ٹرین میں بیٹھ کر معزز۔ رویوں کا یہ فرق کیوں؟ عزتوں کے یہ جدا معیار کیوں؟ کیوں خدا کے بندے خود کو خدا سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں؟...

Say No To Corruption

Image
کرپشن وہ کہنے لگا ہمارے حکمران کرپٹ ہیں۔ میں نے کہایہ چھوٹی بات ہے اس چھوٹے سے آئینہ میں ایک عکس مستوی ہے اور وہ یہ کہ ہماری قوم کی اکثریت کرپٹ ہے۔ اس نے حیرت زدہ لہجے میں پوچھا: تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: بات اتنی سی ہے کہ کرپشن فقط مالی خرد برد کا نام نہیں۔ کرپشن ہر پیشہ والے کے لئے مختلف ہے۔ دکان دار اگر گاہک کو کلو کا چونا لگا دے، اسے تو ہم کرپشن تسلیم کرتے ہیں لیکن اگر دکان دار کا ڈیل کرنے کا انداز غلط ہے تو اسے ہم کرپشن نہیں سمجھتے۔ سرکاری افسر ناجائز کمیشن، کک بیکس اور پلاٹ ہتھیا لے، اسے تو ہم کرپشن مانتے ہیں لیکن وہ آفس میں آکر فائلیں لٹکاتا رہے، دفتر کے ملازم سے گھریلو خدمتیں کرواتا رہے، انتظار میں بیٹھے غریبوں کو "صاحب میٹنگ میں ہیں" کا پیغام بھیجتا رہے تو یہ کرپشن نہیں ہے۔ ڈاکٹر کمپنیوں سے لاکھوں اینٹھ کر مریضوں کو زاید از ضرورہ ادویہ لکھ دے، اسے تو ہم کرپشن سمجھتے ہیں لیکن دل میں مریض کی خدمت کو بوجھ سمجھ کر کرےاسے ہم کرپشن نہیں سمجھتے۔ استاد گھر بیٹھ کر تنخواہیں وصول کریں اسے تو کرپشن کہا جاتا ہے لیکن بچوں کو اپنے رویہ سے تعلیم سے بد ظن کر...

Home At The Back - Bedal Hederi

Image
بیدلؔ حیدری کے مجموعہ کلام ''پشت پہ گھر'' سے گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا بھونچال میں کفن کی ضرورت نہیں پڑی ہر لاش نے مکان کا ملبہ پہن لیا بیدلؔ لباسِ زیست بڑا دیدہ زیب تھا اور ہم نے اس لباس کو الٹا پہن لیا

Pakistan

Image
پاکستان تمہارے باپ کا تو نہیں! خدا کی قسم یہ ملک دنگہ فساد پھیلانے کے لئےنہیں، اسے مٹانے کے لئے  بنا تھا۔ یہ ملک مخدوموں کے لئے نہیں خادموں کے لئے  بنا تھا۔ یہ سیاسی ڈراموں کے لئے نہیں فلاحِ عامہ کے لئے بنا تھا۔ یہ  دکھ دینے کے لئے نہیں، دکھ سہنے کے لئے  بنا تھا۔ یہ محبتیں پھیلانےوالا ملک تھا۔ یہ وہ ملک تھا جہاں ڈاکیا خط کا متن بدل دیتا تھا کہ کہیں بڑھاپے میں ماں کی آس نہ ٹوٹ جائے۔ یہ وہ گلستاں تھا جہاں بیٹی محبت  چھوڑ دیتی تھی کہ کہیں باپ کو بڑھاپے میں طعنہ نہ پڑ جائے۔ یہ ان جوانوں کی سرزمین تھی جو میدانِ کارساز میں نکلنے سے پہلے ماوں سے وعدہ لیتے تھے کہ میرے لاشے کی بے حرمتی نہ کرنا۔ جہاں باپ اپنے بیٹے سے کہتا تھا   زخمی پیٹھ کے ساتھ لوٹنے سے بہتر ہے چھاتی چھلنی کروا لینا۔ یہ محبتوں کے سمندر میں ڈوبا  وہ عجوبہ تھا جہاں آپ رات کے آخری پہر دروازہ کھٹ کھٹاتے تو مالکِ مکان گھر والوں سے کہتا ہے دسترخوان لگاؤ ، اللہ کا مہمان آیا ہے۔ جہاں لوگ مہمان کے نہ آنے پر توبہ کرتے تھے کہ کہیں سوہنا رب ناراض تو نہیں ہوگیا۔ جہاں استاد معمو...

Tell Me! What You Want

Image
میں آج ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ اگر اجازت ہوتو۔ آپ  ہم سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ آپ کیا چاہتے ہیں؟ ہمارے آج کے بارے میں جو فیصلے آپ کر رہے ہیں ان کا اثر ہمارے مستقبل پر ضرور بالضرور پڑنے والا ہے۔ کیا آپ کے اور ہمارے مقاصد میں ہم آہنگی ہے؟ ،کیا آپ نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہمارے اور آپ کے پوائینٹ آف ویو میں کچھ فرق ہے؟ اگر فرق ہے تو کیا آپ نے اسے مٹانے کی کوشش کی؟ کیا آپ نے اپنے اور ہمارے مقاصد میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی سنجیدہ کوشش کی؟ کیا آپ ہمارے بارے کئے جانے والے ان فیصلوں پر ہماری رائے جاننے کی کوشش کرتے ہیں جن کا ہمارے مستقبل پر گہرا اثر پڑنے والا ہے؟ کہیں آپ ہمارے ساتھ چل سو چل والا معاملہ تو نہیں کر رہے؟ کیا آپ ہمارے ساتھ بیٹھ کر ان سنجیدہ موضوعات پر گفتگو کرنے کے لئے تیار ہیں؟ اگر ہیں تو آئیے! بیٹھ کر مشترکہ مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ کیونکہ مسائل حل کرنے سے ختم ہوتے ہیں صرفِ نظر کرنے سے نہیں۔۔۔۔۔۔۔!

Dream Big, Work Hard

Image
بے عمل دل ہو تو جذبات سے کیا ہوتا ہے دھرتی بنجر ہو تو برسات سے کیا ہوتا ہے ہے عمل لازمی تکمیلِ تمنا کے لئے ورنہ رنگین خیالات سے کیا ہوتا ہے نا معلوم

Faisal Masjid

Image
مساجد کا پامال ہوتا تقدس اور بحیثیتِ قوم ہماری بے حسی " جس چیز کی نسبت رب کے ساتھ ہوجائے، وہ چیز کتنی ہی حقیر کیوں نہ ہو، دل والوں کے لئے اس قدر مقدس ہو جاتی ہے کہ تقدیس بھی اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتی ہے۔" اسلام نے جن چیزوں کو انسانی جان کے بعد سب سے زیادہ تقدیس عطا کی ہے، ان میں مساجد سرِ فہرست ہیں۔ مساجد کو اپنی ذات میں ایسا رتبہ حاصل ہے جو دنیا کے دیگر مذاہب میں بھی بلحاظِ ظاہری کسی مذہبی مقام کو میسر نہیں۔ مذہبِ اسلام نے مساجد کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہوئے، انہیں اللہ کا گھر قرار دیا ہے۔ اور بلاشبہ جس مقام کو اللہ کا گھر قرارپائے، اس کے تقدس کا اندازہ نگاہِ فانی سے لگانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔ مگر آج حالت یہ ہے کہ جدید تہذیب کے درآمد کردہ گندے انڈوں جیسی سوچ نے ہمارے دلوں سے ان کا تقدس نہ صرف نکال دیا ہے بلکہ انہیں تفریح گاہ، اور مرکزِ سیاحت بنا دیا ہے۔ شاید بعض دوستوں کو "تفریح گاہ" اور "مرکزِ سیاحت" جیسے الفاظ اس محل میں نا مناسب محسوس ہورہے ہوں گےلیکن درحقیقت یہ نہایت مہذب اور  محتاط الفاظ ہیں۔