پاکستان تمہارے باپ کا تو نہیں! خدا کی قسم یہ ملک دنگہ فساد پھیلانے کے لئےنہیں، اسے مٹانے کے لئے بنا تھا۔ یہ ملک مخدوموں کے لئے نہیں خادموں کے لئے بنا تھا۔ یہ سیاسی ڈراموں کے لئے نہیں فلاحِ عامہ کے لئے بنا تھا۔ یہ دکھ دینے کے لئے نہیں، دکھ سہنے کے لئے بنا تھا۔ یہ محبتیں پھیلانےوالا ملک تھا۔ یہ وہ ملک تھا جہاں ڈاکیا خط کا متن بدل دیتا تھا کہ کہیں بڑھاپے میں ماں کی آس نہ ٹوٹ جائے۔ یہ وہ گلستاں تھا جہاں بیٹی محبت چھوڑ دیتی تھی کہ کہیں باپ کو بڑھاپے میں طعنہ نہ پڑ جائے۔ یہ ان جوانوں کی سرزمین تھی جو میدانِ کارساز میں نکلنے سے پہلے ماوں سے وعدہ لیتے تھے کہ میرے لاشے کی بے حرمتی نہ کرنا۔ جہاں باپ اپنے بیٹے سے کہتا تھا زخمی پیٹھ کے ساتھ لوٹنے سے بہتر ہے چھاتی چھلنی کروا لینا۔ یہ محبتوں کے سمندر میں ڈوبا وہ عجوبہ تھا جہاں آپ رات کے آخری پہر دروازہ کھٹ کھٹاتے تو مالکِ مکان گھر والوں سے کہتا ہے دسترخوان لگاؤ ، اللہ کا مہمان آیا ہے۔ جہاں لوگ مہمان کے نہ آنے پر توبہ کرتے تھے کہ کہیں سوہنا رب ناراض تو نہیں ہوگیا۔ جہاں استاد معمو...
مسئلہ یہ نہیں ہے کہ میں خود کو بدل نہیں پاتا، مسئلہ یہ ہے کہ میں خود کو بدلنے کی کوشش ہی نہیں کرتا، دعوے تو ساری دنیا کو بدلنے کے کرتا ہوں، لیکن خود میں تبدیلی کی ضرورت مجھے دکھتی نہیں ہے، سپنے تو ارضِ پاک کو پاک کرنے کے دیکھتا ہوں، لیکن سڑک پے سگریٹ کی راکھ میں بکھیرتا ہوں ، خواب میراشہر کی ترقی ہے، لیکن بستر پہ میرے سلوٹیں ہی سلوٹیں ہیں، اپنی بستی اپنے محلے کو عزیز رکھتا ہوں، لیکن اپنے پڑوسی سے میری بات چیت بند ہے، میری ایک این جی آو بھی ہے، میرا سلوگن تبدیلی بھی ہے، میری مقصدِ حیات "سروسنگ فار ہیومینٹی" بھی ہے، میری جماعت کا نام "پی ٹی آئی" بھی ہے، میں سچ سننے کا عادی ہوں، مجھے جھوٹ سے سخت نفرت بھی ہے، میں ہر بندے میں قائد کے خواب کی تعبیر بھی چاہتا ہوں، میں الطاف بھائی سے نواز شریف تک سب کا احتساب بھی چاہتا ہوں، میں مرنے سے پہلے خود کو پاکستان کا وزیرِ اعظم بھی دیکھنا چاہتا ہوں، میں اپنے جنازے پہ کروڑوں کا اجتماع بھی چاہتا ہوں، لیکن ! کیا میں اس کی قیمت ادا کرنے کو تیار بھی ہوں؟ کیا میں نے کبھی اپنے خوابوں کو تعبیر کر...
کرپشن وہ کہنے لگا ہمارے حکمران کرپٹ ہیں۔ میں نے کہایہ چھوٹی بات ہے اس چھوٹے سے آئینہ میں ایک عکس مستوی ہے اور وہ یہ کہ ہماری قوم کی اکثریت کرپٹ ہے۔ اس نے حیرت زدہ لہجے میں پوچھا: تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: بات اتنی سی ہے کہ کرپشن فقط مالی خرد برد کا نام نہیں۔ کرپشن ہر پیشہ والے کے لئے مختلف ہے۔ دکان دار اگر گاہک کو کلو کا چونا لگا دے، اسے تو ہم کرپشن تسلیم کرتے ہیں لیکن اگر دکان دار کا ڈیل کرنے کا انداز غلط ہے تو اسے ہم کرپشن نہیں سمجھتے۔ سرکاری افسر ناجائز کمیشن، کک بیکس اور پلاٹ ہتھیا لے، اسے تو ہم کرپشن مانتے ہیں لیکن وہ آفس میں آکر فائلیں لٹکاتا رہے، دفتر کے ملازم سے گھریلو خدمتیں کرواتا رہے، انتظار میں بیٹھے غریبوں کو "صاحب میٹنگ میں ہیں" کا پیغام بھیجتا رہے تو یہ کرپشن نہیں ہے۔ ڈاکٹر کمپنیوں سے لاکھوں اینٹھ کر مریضوں کو زاید از ضرورہ ادویہ لکھ دے، اسے تو ہم کرپشن سمجھتے ہیں لیکن دل میں مریض کی خدمت کو بوجھ سمجھ کر کرےاسے ہم کرپشن نہیں سمجھتے۔ استاد گھر بیٹھ کر تنخواہیں وصول کریں اسے تو کرپشن کہا جاتا ہے لیکن بچوں کو اپنے رویہ سے تعلیم سے بد ظن کر...
Comments
Post a Comment