میں آج ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ اگر اجازت ہوتو۔ آپ ہم سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ آپ کیا چاہتے ہیں؟ ہمارے آج کے بارے میں جو فیصلے آپ کر رہے ہیں ان کا اثر ہمارے مستقبل پر ضرور بالضرور پڑنے والا ہے۔ کیا آپ کے اور ہمارے مقاصد میں ہم آہنگی ہے؟ ،کیا آپ نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہمارے اور آپ کے پوائینٹ آف ویو میں کچھ فرق ہے؟ اگر فرق ہے تو کیا آپ نے اسے مٹانے کی کوشش کی؟ کیا آپ نے اپنے اور ہمارے مقاصد میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی سنجیدہ کوشش کی؟ کیا آپ ہمارے بارے کئے جانے والے ان فیصلوں پر ہماری رائے جاننے کی کوشش کرتے ہیں جن کا ہمارے مستقبل پر گہرا اثر پڑنے والا ہے؟ کہیں آپ ہمارے ساتھ چل سو چل والا معاملہ تو نہیں کر رہے؟ کیا آپ ہمارے ساتھ بیٹھ کر ان سنجیدہ موضوعات پر گفتگو کرنے کے لئے تیار ہیں؟ اگر ہیں تو آئیے! بیٹھ کر مشترکہ مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ کیونکہ مسائل حل کرنے سے ختم ہوتے ہیں صرفِ نظر کرنے سے نہیں۔۔۔۔۔۔۔!
پاکستان تمہارے باپ کا تو نہیں! خدا کی قسم یہ ملک دنگہ فساد پھیلانے کے لئےنہیں، اسے مٹانے کے لئے بنا تھا۔ یہ ملک مخدوموں کے لئے نہیں خادموں کے لئے بنا تھا۔ یہ سیاسی ڈراموں کے لئے نہیں فلاحِ عامہ کے لئے بنا تھا۔ یہ دکھ دینے کے لئے نہیں، دکھ سہنے کے لئے بنا تھا۔ یہ محبتیں پھیلانےوالا ملک تھا۔ یہ وہ ملک تھا جہاں ڈاکیا خط کا متن بدل دیتا تھا کہ کہیں بڑھاپے میں ماں کی آس نہ ٹوٹ جائے۔ یہ وہ گلستاں تھا جہاں بیٹی محبت چھوڑ دیتی تھی کہ کہیں باپ کو بڑھاپے میں طعنہ نہ پڑ جائے۔ یہ ان جوانوں کی سرزمین تھی جو میدانِ کارساز میں نکلنے سے پہلے ماوں سے وعدہ لیتے تھے کہ میرے لاشے کی بے حرمتی نہ کرنا۔ جہاں باپ اپنے بیٹے سے کہتا تھا زخمی پیٹھ کے ساتھ لوٹنے سے بہتر ہے چھاتی چھلنی کروا لینا۔ یہ محبتوں کے سمندر میں ڈوبا وہ عجوبہ تھا جہاں آپ رات کے آخری پہر دروازہ کھٹ کھٹاتے تو مالکِ مکان گھر والوں سے کہتا ہے دسترخوان لگاؤ ، اللہ کا مہمان آیا ہے۔ جہاں لوگ مہمان کے نہ آنے پر توبہ کرتے تھے کہ کہیں سوہنا رب ناراض تو نہیں ہوگیا۔ جہاں استاد معمو...
محترم آصف محمود کی وال سے گونگے شیطانوں میں گھرے اس سماج میں ان لوگوں کی ضرورت ہے جو ظلم کو ظلم کہنے سے پہلے ظالم اور مظلوم کا چہرہ نسب دیکھنے کی ضرورت محسوس نہ کریں ۔
Comments
Post a Comment